Allah Blessed Food of Holy Prophet ﷺ | Hadith Sahih Muslim

برکۃ فی طعام رسول اللہ ﷺ

حضورﷺکے کھانے میں برکت

Allah Blessed Food of Holy Prophet ﷺ


Hadith in Arabic


عَنْ جَابِرٍأَنَّ أُمَّ مَالِكٍ كَانَتْ تُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا فَيَأْتِيهَا بَنُوهَافَيَسْأَلُونَ الْأُدْمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُمْ شَيْءٌ فَتَعْمِدُإِلَى الَّذِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجِدُفِيهِ سَمْنًافَمَازَالَ يُقِيمُ لَهَا أُدْمَ بَيْتِهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَصَرْتِيهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَوْ تَرَكْتِيهَا مَا زَالَ قَائِمًا


Urdu Translation


حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ام مالک(رضی اللہ تعالیٰ عنہا) ہدیہ بھیجاکرتی واسطے نبی ﷺ کے ایک کپی میں گھی ، پس آجاتے اس کے پاس اس کے بیٹے پس مانگتے اس سے سالن ، اور جب نہ ہوتی ان کے پاس کوئی چیز تو پس جاتی اس (کپی ) کے پاس جو ہدیہ میں دیا کرتی واسطے نبی ﷺ کےتو پاتی اس میں گھی ، پس اسی طرح چلتا رہتا سالن ان کے گھر کا، یہاں تک کہ نچوڑ لیا اس کو ، پس آئی نبی ﷺ کے پا س ، تو عرض کی ، پس فرمایا کیا نچوڑ لیا تھا آپ نے اس کو (سارا) ، عرض کی جی ہا ں ، فرمایا اگر تو اس کو یو ں ہی رہنے دیتی تو یہ ہمیشہ قائم رہتا (یعنی بالکل ختم نہ کرتی تو اس میں ہمیشہ برکت رہتی اور گھی کبھی ختم نہ ہوتا ۔ مسلم


English Translation


Jabir (Razi Allaho Anho) narrates that, “ Ume Maalik used to send some ghee (lard, fats) as a gift to Holy Prophet ﷺ in a tin pot. When her children demanded curry and she did not have anything to give them, she went to the tin pot gifted to Holy Prophet ﷺ and found some ghee for them. It kept running like this. Once, she used all of the ghee from the pot and cleared it. She came towards Holy Prophet ﷺ and informed him.” He asked, “if she had cleared the pot.” She said, “Yes.” He said, “If you did not have finished all of it, you would have been getting the ghee forever in your life.” (Sahih Muslim)

Allah Blessed Food of Holy Prophet ﷺ | Hadith Sahih Muslim pdf free download

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *