Area of Body Necessary To Be Covered [Book of Clothing]

سترالعورۃ

Area of Body Necessary To Be Covered [Book of Clothing]

سترڈھانکنا ضروری ہے


Hadith about Book of Clothing (Kitab-Al-Libas) with Translation in English, Urdu & Arabic


Hadith No-7358: Behz bin Hakim narrated from his father and he from his grand father Radi Allah o anho that, “I asked from Rasoolullah ﷺ , how much we can expose our private parts of our body or we can hide?” He said, “Always, protect your private parts of body except your wives and (slave girls) that your right hands possess.” I asked, “Do you see, some people of the our tribe may impose upon each other?” He said, “You should avoid to expose yourself upto your full capacity.” I asked, “If some body is alone?” He said, “Allah is the most deserving for our coyness (shyness) to him, and he placed his hand on his private parts”.(Narrated Hakim at no 7358 and said, “This hadith has correct chain of narrators”. and Taleek of Zahby in Talkhees is, “Correct”. and narrated Tirmizi at no 2769, 2794 and Ibn e Majah at no 1920 and Abu Dawood at no 4017 all with a good chain of narrators)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ،قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ،۔(المسلمؒ وبرقم 419) ورواہ البخاریؒ برقم 176 وابن حبانؒ برقم 1297 قال شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرطهما وبرقم 1295 قال شعيب الأرنؤوط : حديث صحيح والحاکمؒ فی المستدرک برقم 569 وذکر”الہرۃ مثل ذلک (ای یغسلہ سبع مرات)” وقال ھذا حدیث صحیح الاسنادعلی شرط الشیخین،وتعلیق الذہبیؒ فی التلخیص، علی شرطہما، واحمدبن حنبلؒ برقم 20585 ، 8597 وفی کلیہماتعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط الشيخين،والنسائیؒ برقم 66، 67 وفی کلیہما قال الشيخ الألباني : صحيح والترمذیؒ برقم 91 وقال ھذا حدیث حسن صحیح وقال الشيخ الألباني : صحيح ۔

ترجمہ ۔ 7358 بیان کیابہزبن حکیم نے اباجان سے، اس نے ان کےداداجان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ “میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ہم اپنا ستر کس قدر کھول سکتے ہیں اورکس قدر چھپائیں؟ ارشادفرمایا ہمیشہ حفاظت کراپنے ستر کی سوائے اپنی بیوی کے یاجن کے مالک ہوجائیں تمہارے دائیں ہاتھ (کنیزیں)، میں نے عرض کی کیا آپ نے ملا حظہ فرمایا،کہ کبھی قوم کے بعض لوگ بعض پر غالب آجاتے ہیں؟ ارشاد فرمایا، اگر تو استطاعت رکھتاہے کہ ان میں سے کسی ایک پر بھی ظاہر نہ کرے تو ہرگز نہ کر نا، میں نے عرض کی آپ کیسادیکھتے ہیں ہیں اگر کوئی تنہاہو تو (کیا اپنا سترکھول سکتا ہے)؟ ارشاد فرمایا، پس اللہ سب سے زیادہ حق دارہے کہ اس سے حیاکی جائےاوررکھ لیا ہاتھ اپنا اپنی شرم گاہ پر(یعنی اشارہ ہے کہ تنہائی میں بھی اس کوچھپایاجائے، یا یہ کہ ہاتھ سے ہی سترچھپا لے)”۔ (روایت کی ہے الحاکمؒ نے اور کہاکہ یہ حدیث صحيح الإسناد ہے۔۔۔تعليق امام الذهبي کی التلخيص میں ہے کہ صحيح ہے،اورروایت کی ہے الترمذیؒ نے نمبر 2769، و2794،پر اورابن ماجہٰؒ نے نمبر 1920 پر ، اورابوداودؒ نے نمبر 4017 پر، سب نے اسناد حسن کےساتھ)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *