Hazrat Ali (RA) Used to Write Ahadeeth | Sahih Bukhari

کان علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکتب احادیث

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا احادیث قلم بند کرنا

Hazrat Ali (RA) Used to Write Ahadeeth


Hadith in Arabic


حَدَّثَنِى إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ خَطَبَنَا عَلِىٌّ رضى الله عنه عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ، وَعَلَيْهِ سَيْفٌ فِيهِ صَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَقَالَ وَاللَّهِ مَاعِنْدَنَا مِنْ كِتَابٍ يُقْرَأُ إِلاَّ كِتَابُ اللَّهِ وَمَا فِى هَذِهِ الصَّحِيفَةِ. فَنَشَرَهَافَإِذَا فِيهَا أَسْنَانُ الإِبِلِ وَإِذَا فِيهَا« الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ عَيْرٍ إِلَى كَذَا، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَاحَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً». وَإِذَا فِيهِ« ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ

 


Urdu Translation


حدیث بیان کی ابراہیم تیمی ؒ نے کہ حدیث بیان کی میرے ابا جان نے، کہاکہ خطبہ دیا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اینٹ کے بنے ہوئے منبر پر کھڑے ہو کر ، ان پر (کے پاس ) تلوار تھی جس پرایک صحیفہ (کتابچہ ) لٹکا ہوا تھا ۔پس فرمایا اللہ کی قسم کچھ نہیں پاس ہمارے کسی قسم کی کتاب (کوئی دوسرا قرآن وغیرہ)جو پڑھی جائے سوائے کتاب اللہ (اسی قرآن مجید )کے اور جو اس صحیفہ میں ہے ، پس کھولا اس کو تو اس میں دیت میں دئے جانے والے اونٹوں (کی تفصیلات ) تھیں ۔اور اس میں یہ بھی تھا کہ مدینہ (منورہ) حرم ہے عیر (پہاڑی )سے فلاں (مقام ) تک ،پس اس میں جوکوئی نئی بات(بدعت یا ظلم) کرے گا تواس پر اللہ کی لعنت ہے اورفرشتوں کی اور تمام انسانوں کی،نہیں قبول فرمائے گااللہ تعالیٰ اس سے فرض (اعمال ) اور نہ ہی نفل ،اور اس میں یہ بھی تھاکہ مسلمانوں کا ذمہ داری لینا(عہد یاامان) ایک ہی(جیسا) ہے(چاہے) اس کو لینے والا ان کا ادنی (ہی کیوں نہ ) ہو۔۔۔  بخاری ؒ


English Translation


Ibrahim Taimee narrated ahadeeth from his father, he said,”Ali (R.A) delivered a ceremony standing on a dice and a booklet was hanging with his (traditional) sowrd”. He (Ali R.A) said, “I swear on that I have nothing else to be read except Quran and what so ever in this booklet”. He opened it and there were some commandments about giving camels in revenge (of killed people) and Madina was Haram (a holy place like Makkah) from Ebar hills to that (any) place. There was nothing new in it. Now, if any one will invent a new thing, Allah will curse upon him and his angels and all humans. Allah will not accept his obligatory deeds and other good deeds also. It (booklet) also includes that responsibility accepted (especially for giving refuge) by an ordinary muslim is same by all (important persons). (Sahih Bukhari)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *