Holy Prophet (ﷺ) and Angels were Modest to Usman | Sahih Muslim

یستحیی رسول اللہ ﷺ والملائکۃ من عثمان رضی اللہ عنہ

Holy Prophet (ﷺ) and Angels were Modest to Usman

رسول اللہ ﷺ اورفرشتے عثمان رضی اللہ عنہ سے حیا کرتے ہیں


Hadith in English, Urdu & Arabic


Aisha (Allah pleased with her) narrates, “Once Holy Prophet ﷺ was taking rest at my home, and his both thighs and shanks were uncovered. Abu Bakr (Allah pleased with him) asked permission for entry. He was permitted, and Holy Prophet ﷺ kept discussing in the same condition. Again, Umar (Allah pleased with him) asked permission for entry. He was also permitted and Holy Prophet ﷺ kept discussing in same condition. When Usman (Allah pleased with him) asked permission for entry, Holy Prophet ﷺ corrected himself and his clothes and permitted him. He entered and discussion continued. When everybody departed, she asked, “You did not bather entrance of Abu Bakr and again entrance of Umar (Allah pleased with them). When Usman (Allah pleased with him) entered, you corrected yourself and your clothes? Holy Prophet ﷺ said, “Angels are modest to him, why I should not be modest to him.”? (Sahih Muslim)

أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ ۔۔۔فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ۔  مسلمؒ

ترجمہ۔ ۔تحقیق عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)نےکہا کہ ، “رسول اللہ ﷺ تکیہ لگائےلیٹے ہوئے تھے میرے گھر میں (ا س حال میں کہ )کھلی تھی آپ کی دونو ں (مبار ک) رانیں یا پنڈلیاں ، پس اجازت چاہی (گھر داخل ہونے کی) ابو بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے ، تو اجاز ت دے دی ان کے لئے اور وہ (رسول اللہ ﷺ) اسی حال میں گفتگو فرماتے رہے ، پھر اجاز ت طلب کی عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ، تو ان کو بھی اجازت مل گئی ، اور آپ اسی حال میں گفتگو فرماتے رہے ، پھر عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اجاز ت چاہی تو (اٹھ کر) بیٹھ گئے رسول اللہ ﷺ اور درست فرمالئے اپنے (مبارک ) کپڑے ۔۔۔ پس داخل ہو ئے اور گفتگو فرماتے رہے ، جب (سب )تشریف لے گئے تو عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عرض کی ،(یا رسول اللہ ﷺ) داخل ہو ئے ابوبکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تو آپ اسی حال پر رہے اور کچھ خیال نہیں فرمایا ، پھر عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) داخل ہوئے تو آپ اسی حال پر رہے اور کچھ خیال نہیں فرمایا، پھر داخل ہوئے عثمان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے (مبارک )کپڑے درست فرمالئے ؟ تو ارشاد فرمایا کیا میں حیا نہ کروں اس شخص سے جس سے فرشتے حیا کرتےہیں۔ مسلمؒ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *