Taking a Bath on Friday is Sunnah

الغسل یم م الجمعۃ سنۃ

Taking a Bath on Friday is Sunnah

جمع کے دن غسل کرنا سنت ہے


Hadith in English, Urdu & Arabic


Ibrahim bin Nashit narrates, “I asked from Ibn e Shahab (a scholar) about taking shower on Friday”. He answered, “This is Sunnah”, and certainly, Salim ibn Abd-Allah narrated from his father (Abdullah bin Umar Radi Allaho Anho), “Surely, Holy Prophet ﷺ has said this (Taking a bath on Friday is Sunnah) on the pulpit (a three step bench for sitting while delivering sermon)”. Sheikh Albany said, “Chain of narrators is correct”. (Al-Nasa’i)

بَاب حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ۔ (بخاریؒ) ورواہ احمد بن حنبلؒ فی مسندہ برقم 91، تعليق شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح على شرط الشيخين، والنسائیؒ برقم 1405،عن بن عمررضی اللہ عنہما،بلفظ قال خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : “إذا راح أحدكم إلى الجمعة فليغتسل” قال الشيخ الألباني : صحيح ۔وھذہ الاحادیث تدل علی انہ الغسل علی یوم الجمعۃ سنۃ ، لم یغتسل الرجل الذٰی دخل المسجد حین ٰیخطب ابن الخطاب رضی اللہ عنہ ولم یقل لہ بالرجوع الی الغسل۔

ترجمہ۔  ابوہریرۃ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ )سے روایت ہے کہ تحقیق عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے درمیان جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اس وقت آگیا ایک آدمی ،تو فرمایا عمر(رضی ا للہ تعالیٰ عنہ)نے ،کس لئے رکے رہے تم نماز (جمعہ) سے(کیوں دیر کردی؟)،پس کہااس شخص نے نہیں کوئی بات سوائے اس کے کہ میں نے سنی آذان تو میں نے(توفوراً) وضوء کیا ،پھر اسی طرح فرمایا کیا تم نے نہیں سنا کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ،”جب چلے تم میں سے کوئی (نماز) جمعہ کے لئے تو اسے چاہیئے کہ غسل کرلے “۔ (بخاری ؒ) اوررویت کی ہے امام احمدبن حنبلؒ نے ،نمبر 91 پر تعلیق شعیب الارنؤوط کی یہ ہےکہ اسناد اس کے صحیح ہیں شیخین(بخاریؒ ومسلمؒ)کی شرط پر۔اور نسائی ؒ نے نمبر 1405پر ، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ،ان لفظوں کے ساتھ کہاکہ ، رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ،تو ارشادفرمایا ، “جب چلے تم میں سے کوئی جمعہ ادا کرنے تو اسے چاہئے کہ غسل کرلے”۔ کہاالشیخ البانی ؒ نے ، صحیح ہے۔ان احادیث کی روشنی میں جمعہ سنت ہے ، کیوں کہ ایک شخص بغیر غسل کے آئے ، اور عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے غسل کے لئے واپس نہیں کیا۔اگر واجب ہوتا تو وہ صاحب پہلے سے ہی غسل کا اہتمام فرماتے ، یا عمر رضی اللہ عنہ ان کو واپس غسل کے لئے بھیج دیتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *